3 مئی 2014 - 13:31
بحرین میں آل خلیفہ کے ہاتھوں قیدیویوں کی ایذارسانی

بحرین کے ایک عالم دین نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت، اس ملک کے باشندوں کو ایذائیں دیئے جانے کا انکار کرتی ہے ۔

ابنا: بحرینی عالم دین ، شیخ عیسی قاسم نے بحرین کے الدراز علاقے میں نماز جمعہ کے خطبوں میں، آل خلیفہ کی فورسیز کے ہاتھوں دو ہفتے قبل  "عبد العزیز العبار" کو قتل کرنے اور اس کی لاش نہ دیئے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت، اس کے قتل کی ذمہ داری سے دامن بچا رہی ہے۔
شیخ عیسی قاسم نے اسی طرح قیدیوں کو ایذائیں دیئے جانے اور انہیں جیل میں رکھنے کے بارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ حکومت کے عہدیدار ہمیشہ اپنے جارحانہ اقدامات کا انکار کرتے آرہے ہیں۔ اس سے قبل بھی بحرین کے انسانی حقوق کی حامی جوانوں کی ایک تنظیم نے اس ملک میں سیاسی قیدیوں کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تقریبا سو قیدی "جو" نامی مرکزی جیل میں 24 اپریل 2014 سے ہڑتال کئے ہوئے ہیں اور ان کو سکورٹی فورسیز شکنجے دیتی رہی ہیں۔
دوسری جانب ہزاروں بحرینی عوام نے دارالحکومت منامہ میں مظاہرے میں شرکت کرکے آل خلیفہ کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ مظاہرین، نعرے لگار ہے تھے کہ آل خلیفہ حکومت کو سرنگوں ہونا چاہیئے اور بحرین کے عوام نئے بنیادی آئین کی تدوین ميں مشارکت کريں تاکہ یہ قانون، اس ملک میں موجودہ استبداد کا جاگزیں اور ڈموکریسی کے قیام کی بنیاد قرار پائے۔

.......

/169